Featured

First blog post

This is the post excerpt.

Advertisements

This is your very first post. Click the Edit link to modify or delete it, or start a new post. If you like, use this post to tell readers why you started this blog and what you plan to do with it.

post

بدلاؤ

کچھ دنوں سے میرے پتی آدرش شرما کے مزاج میں حیرت انگیز بدلاؤ آیا ہے۔ اس کا کارن کیا ہے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ نہ وہ غصہ، نہ اپنے ماتا پتا کے ساتھ بدذبان، نہ گھر دیر سے آنا، نہ شراب نوشی، ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے پتی آدرش شرما واستو میں ایک آدرش بیٹے، آدرش باپ اور آدرش پتی ثابت ہوئے ہیں۔ ان دنوں کافی سنجیدہ لگنے لگے ہیں۔ چست نکھرا ہوا چہرہ، نرم گفتار، اپنے ماتا پتا کی خدمت، بچوں سے بےانتہاء پیار اور تو اور میرے ہر چھوٹے بڑے کام میں بٹانے لگے ہیں۔ ہر صبح پانچ اٹھ کر جانے کہاں چلے جاتے ہیں۔ آج میں نے یہ طے کر لیا کہ کس بھی طرح ان کے اس بدلاؤ کا کارن جان کر ہی رہوں گی۔ وہ کیا چیز ہے جس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی. آج جب وہ صبح پانچ بجے اٹھ کر باہر جانے لگے تو میں نے چھپ چھپ کر ان کا پیچھا کیا۔ یہ دیکھ کر میری آنکھیں متحیر ہو گئیں کہ وہ سیدھے مسجد کے اندر چلے گئے جہاں سے اذان کی پرکشش آواز گونج رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اذان کی آواز ختم ہی وہ ہاتھ منہ دھونے لگے۔ پاس ہی کار سے ان کے دوست انہیں حسن علی کے نام سے مخاطب کر رہے تھے۔انہیں کلمہ پڑھایا، قرآنی آیات سکھائیں، اس کا ترجمہ بتایا۔ تفسیر سنائی، انہوں نے نماز پڑھائی۔ حدیث سنی جس کی آواز میرے کانوں تک صاف آرہی تھی۔ اس پاٹھ کا ایک شبدھ میرے دل میں اتر رہا تھا، جو بہترین زندگی کی سیکھ دے رہا تھا۔ان باتوں کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میری آنکھوں سے آنسو امڑ پڑے۔ میں بےتحاشہ رو پڑی اور میں نے تبھی فیصلہ کر لیا مجھے بھی کلمہ پڑھنا ہے۔ مجھے بھی اسی فلاح کا راستہ اپنانا ہے جس پر چل کر میرے پتی میں ایسا بدلاؤ آیا ہے۔

ایک ارو جاہلوں کی ٹولی۔

ﺍﮐﺜﺮ ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺁﺋﻨﺪﮦ 9 ؍ﺍﭘﺮﯾﻞ ﮐﻮ ﻧﻨﺠﻨﮕﮉﮪ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﮉﻝ ﭘﯿﭧ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺿﻤﻨﯽ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻧﮕﺮﯾﺲ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻢ ﭼﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺍﺟﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺣﺎﺿﺮﯼ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺑﯽ ﺟﮯ ﭘﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮯ ﮈﯼ ﺍﯾﺲ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻭﯾﻼ ﻣﭽﺎﯾﺎ۔ ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﮐﺮﺳﯿﺎﮞ ﺧﺎﻟﯽ ﭘﮍﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺑﯽ ﺟﮯ ﭘﯽ ﻟﯿﮉﺭ ﺟﮕﺪﯾﺶ ﺷﭩﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﻮ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮨﻮﯾﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﻨﺠﻨﮕﮉﮪ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﮉﻝ ﭘﯿﭧ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﮐﮯ ﺿﻤﻨﯽ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺍﻥ ﺣﻠﻘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻢ ﭼﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﭩﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﮨﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﺼﮧ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﯽ ﭨﯽ ﺭﻭﯼ، ﮐﮯ ﺟﯽ ﺑﻮﭘﯿﺎ، ﻭﯾﺸﻮﯾﺸﻮﺭﮨﯿﮕﮉﮮ ﮐﺎﮔﯿﺮﯼ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺣﺎﺿﺮﯼ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺮﮨﻤﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ۔ ﺍﻥ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﻏﯿﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ؟ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﮐﺮﺳﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺣﺎﺿﺮﯼ ﭘﺮ ﺑﯽ ﺟﮯ ﭘﯽ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﮨﻤﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ۔ ﺷﭩﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺍﮨﻢ ﺑﺠﭧ ﺳﯿﺸﻦ ﭼﻞ ﺭﮨﺎﮨﮯ۔ ﺑﺠﭧ ﭘﺮﺟﺐ ﺑﺤﺚ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﻏﯿﺮﺣﺎﺿﺮ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﭧ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﻣﺤﮑﻤﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﮐﻮﻥ ﺳﻨﮯ ﮔﺎ۔ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﺍﺟﻼﺱ ﺻﺒﺢ 10:30 ؍ﺑﺠﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺭﻡ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺻﺒﺢ 11 ؍ﺑﺠﮯ ﺗﮏ ﻣﻠﺘﻮﯼ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﮔﻨﮯ ﭼﻨﮯ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﮨﯽ ﺣﺎﺿﺮﺭﮨﮯ۔ ﺷﭩﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻏﯿﺮﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ۔

ﺟﮯ ﮈﯼ ﺍﯾﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﮨﻢ : ۔ ﺍﺱ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﭘﺮ ﺟﮯ ﮈﯼ ﺍﯾﺲ ﮐﮯ ﮈﭘﭩﯽ ﻟﯿﮉﺭ ﻭﺍﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﻭﯼ ﺩﺗﮧ،ﺳﯿﻨﺌﺮﺭﮐﻦ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﺭﯾﻮﻧﺎﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺣﺎﺿﺮﯼ ﭘﺮ ﺑﺮﮨﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻏﯿﺮﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﯽ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﯾﺮ ﭨﯽ ﺑﯽ ﺟﺌﮯ ﭼﻨﺪﺭﺍ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺠﭧ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﭘﺮ ﺳﯽ ﭨﯽ ﺭﻭﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﺳﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﻣﯿﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﮨﻢ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﺳﻨﻨﺎﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺿﻤﻨﯽ ﭼﻨﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻢ ﭼﻼﻧﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﻮﺭﺍﺝ، ﮐﻤﻨﮯ ﺭﺗﻨﺎﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﮕﺪﯾﺶ ﺷﭩﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻦ ﮐﻦ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﮐﻮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺭﻣﺎﻧﺎﺗﮫ ﺭﺍﺋﮯ، ﮐﺎﮔﻮﮈﺍﺗﻤﭙﺎ، ﺍﯾﻢ ﺑﯽ ﭘﺎﭨﻞ، ﺳﻨﺘﻮﺵ ﻻﮈ، ﺟﺌﮯ ﭼﻨﺪﺭﺍ، ﭘﺮﻣﻮﺩ ﻣﮩﺎﺟﻦ ﮐﻮ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺩﯾﻨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺳﭙﯿﮑﺮ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎﮐﮧ ﺭﻣﺎﻧﺎﺗﮫ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺑﮭﯽ ﻟﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﮔﻮﮈ ﺗﻤﭙﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﺭﺍﺀ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﻔﺘﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﭧ ﭘﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺤﺚ ﮐﺎ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻠﯽٰ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔

My Friday Evening.

After coming home from school, I went for my evening walk as normaly I do everyday after coming home from school. Today I saw a stranger in the corner of the field and he was crying, I asked one of my friend about the stranger and my friend said that this guy lost his son due to illness and he blames himself for the death of son because he is very poor and could not take his son to doctor for treatment.